لکھنؤ،7؍دسمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک کی حمایت کرنے پر اُترپردیش کے سابق وزیراعلیٰ اور سماجوادی پارٹی صدر اکھلیش یادو ’کسان یاترا‘ سے پہلے ہی نظربند کردئے گئے، لیکن جب انہوں نے ’کسان یاترا‘ نکالنے کی کوشش کیتو پولس نے انھیں حراست میں لے لیا۔
اکھلیش یادو کسانوں کی حمایت میں مظاہرہ کرنے کے لیے لکھنؤ سے قنوج جانا چاہتے تھے مگر انتظامیہ نے انھیں منع کر دیا، اس کے باوجود جب وہ گھر سے نکلے تو پولس نے انھیں روک دیا۔ اس عمل پر ناراض اکھلیش یادو وہیں دھرنے پر بیٹھ گئے۔ بعد ازاں پولس نے انھیں حراست میں لے لیا۔
اس سے قبل پولس نے پیر کی صبح لکھنؤ میں سماجوادی پارٹی دفتر سے لے کر اکھلیش یادو کے گھر تک پورے علاقے کو چھاؤنی میں تبدیل کر دیا تھا۔ لکھنؤ کے وکرمادتیہ مارگ پر ان کی رہائش میں ہی اکھلیش یادو کو نظر بند کیا گیا۔ حکومت کورونا انفیکشن کا حوالہ دے کر ان کو گھر سے باہر نہیں نکلنے دے رہی تھی۔ دوسری طرف قنوج میں بھی ضلع مجسٹریٹ نے اکھلیش یادو کی کسان یاترا کو منظوری نہیں دی۔
اکھلیش یادو کی رہائش کے ساتھ ہی سماجوادی پارٹی ہیڈکوارٹر کو بھی بریکیڈنگ لگا کر سیل کر دیا گیا ہے۔اُدھر قنوج میں سماجوادی پارٹی لیڈران و کارکنان کو روکنے کے لیے انتظامیہ کی طرف سے پوری تیاری کرلی گئی ہے۔ لکھنؤ میں وکرمادتیہ مارگ پر پولس بڑی تعداد میں تعینات ہے ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اکھلیش یادو سے ملنے ان کی رہائش گاہ پر جا رہے پارٹی کے دو ایم ایل سی ادے ویر سنگھ اور راج پال کشیپ کو بھی پولس نے سڑک پر ہی روک لیا۔ دونوں لیڈروں نے اپنا تعارف دینے کے ساتھ ہی اپنا شناختی کارڈ بھی دکھایا، اس کے باوجود انھیں روکا گیا۔ قانون ساز کونسل رکن راج پال کشیپ کے ساتھ آشو ملک کو پولس نے گرفتار کیا ہے۔ راج پال کشیپ نے کہا کہ ریاستی حکومت اکھلیش یادو سے گھبرا گئی ہے۔ کسانوں کی آواز اٹھانے پر ناانصافی کی جا رہی ہے۔